بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورۃ الفاتحہ کے بعد دوسری سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا بہتر ہے

سوال

 نماز میں سورۃ الفاتحہ کے بعد بسم اللہ پڑھ کر دوسری سورت شروع کی جائے یا بغیر بسم اللہ کے?  اگر بسم اللہ پڑھ کر شروع کی جائے تو آیا بسم اللہ پڑھنا سنت ہے یا واجب ؟

جواب

نماز میں سورت فاتحہ کے بعددوسری سورت شروع کرنےسے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے نہ واجب، البتہ پڑھنا بہتر ہے۔

الدر المختار(1 / 490):
"( لا) تسن ( بين الفاتحة والسورة مطلقا ) ولو سرية ولاتكره اتفاقاً".

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (1 / 490):
" مطلب قراءة البسملة بين الفاتحة والسورة حسن

(قوله: ولاتكره اتفاقاً) ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأنه إن سمى بين الفاتحة والسورة المقروءة سرًّا أو جهراً كان حسناً عند أبي حنيفة، ورجحه المحقق ابن الهمام وتلميذه الحلبي لشبهة الاختلاف في كونها آيةً من كل سورة ، بحر". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201151
تاریخ12-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں