بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

12 ذو الحجہ کو لاعلمی میں زوال سے پہلے رمی کرنا

سوال

ہم نے 12 ذی الحجہ کی رمی ، زوال کے وقت سے لاعلمی کی وجہ سے زوال سے کچھ دیر پہلے کرلی،  کیا اس صورت میں دم لازم آئے گا؟

جواب

اگر 12 ذو الحجہ کو لاعلمی میں زوال سے کچھ دیر پہلے رمی کی اور زوال کے بعد اگلے دن کی صبح تک اعادہ نہیں کیا تو دم لازم ہوگیا ہے۔ اگر ایسی غلطی ہوجائے تو زوال کے بعد اگلے دن کی صبح صادق سے دوبارہ رمی کرلینی چاہیے؛ تاکہ دم ساقط ہوجائے۔

الفتاوى الهندية - (6 / 70):
"وأما وقت الرمي في اليوم الثاني والثالث فهو ما بعد الزوال إلى طلوع الشمس من الغد حتى لا يجوز الرمي فيهما قبل الزوال إلا أن ما بعد الزوال إلى غروب الشمس وقت مسنون وما بعد الغروب إلى طلوع الفجر وقت مكروه هكذا روي في ظاهر الرواية".  
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201130
تاریخ11-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں