بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بغیر ٹوپی کے نماز ادا ہوجاتی ہے؟

سوال

بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا جائزہے؟

جواب

کاہلی، سستی اور لاپرواہی کی بنا پر ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے،  تاہم نماز ادا ہوجائے گی۔ البتہ اگر کبھی ٹوپی پاس نہ ہو اور فوری طور پر کسی جگہ سے میسر بھی نہ ہو سکتی ہو تو اس صورت میں ننگے سر نماز پڑھنے کی وجہ سے کراہت نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ نماز کے علاوہ بھی ننگے سر نہیں رہنا چاہیے، اس لیے ایسی غفلت و لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے کہ نماز سے باہر ننگے سر رہنا نماز میں ننگے سر رہنے کا سبب بنے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 641):
’’(وصلاته حاسراً) أي كاشفاً (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر .

(قوله: للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمراً مهماً في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاوناً بالصلاة، وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار؛ لأنه كفر. شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201106
تاریخ10-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں