بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار ایک بار معاف کرنا پھر لینا

سوال

اُدھار ایک بار معاف کرنا، پھر لینا کیسا ہے؟

جواب

قرض خواہ  اپنی رضاوخوشی سے جب  قرضہ معاف کردے  اور خود اس کااقراربھی کرتاہے تو اب معاف کردینے اورتخفیف کرنے کے بعددوبارہ اس کا مطالبہ کرناشرعاً جائزنہیں ہے۔حدیث شریف میں قرض کی معافی اورتخفیف پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی فضلیتیں ذکرفرمائی ہیں، نیزقرض کی معافی کی بنا  پرقیامت کے دن مصائب سے چھٹکارانصیب ہوگااوربعض روایات میں ہے کہ عرش کاسایہ نصیب ہوگا؛  اس لیے شرعاً واخلاقاً  قرض کی رقم معاف کرنے کے بعد اب مطالبہ کرکے اپنے ثواب کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ [فتاوی عالمگیری،الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ،ج:۲،ص؛۳۶۰،۳۶۲۔ط:رشیدیہ کوئٹہ]فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201086
تاریخ09-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں