بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانوراگر بیوپاری کے پاس ہلاک ہوجائے

سوال

 قربانی کا جانور خرید کر اسے اسی شخص کے پاس رکھا کہ میں عید سے پہلے وصول کروں گا۔ اب وہ جانور اس آدمی کے پاس ہلاک ہو گیا، اس  کی کوتاہی سے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اسی کے پاس رکھوایا تو  جانور  اس کے پاس  امانت  تھا، اب اگر واقعۃً  اس کی کوتاہی سے ہلاک ہوا ہے تو اس کا تاوان اس کے ذمہ لازم ہے، ورنہ نہیں۔

رہی بات قربانی کی تو  اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قربانی کرنے والا مال دار تھا یعنی اس پر قربانی واجب تھی تو اس کے ذمہ دوسرا جانور ذبح کرنا لازم ہے اور قربانی کے ایام گزرنے کی صورت میں صدقہ کرنا واجب ہے، اور اگر قربانی کرنے والا غریب تھا یعنی اس پر قربانی واجب نہیں تھی  تو اس کے ذمہ دوسرے جانور کی قربانی لازم نہیں۔

اگر واقعۃً بیوپاری کی کوتاہی یا زیادتی ثابت ہوجائے اور وہ تاوان ادا کرے تو  قربانی کرنے والے کے غریب ہونے کی صورت میں وہ رقم صدقہ کرنا واجب ہے، مال دار کے لیے لازم نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201069
تاریخ08-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں