بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جمعہ زوال کے کتنی دیر بعد پڑھی جائے؟

سوال

نمازِ  جمعہ زوال کے کتنی دیر بعد پڑھنا بہتر ہے؟

جواب

 جمعہ  کی نماز  زوال کے بعد جلدی پڑھنا مستحب ہے، لہٰذا زیادہ تاخیر کیے بغیر  پڑھ لینی چاہیے۔

"(وجمعة كظهر أصلاً واستحباباً) في الزمانين؛ لأنها خلفه.

(قوله: واستحباباً في الزمانين ) أي الشتاء والصيف، ح،  لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام: أنه لايسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارىء الهداية: قيل: إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه. وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم؛ فتأخيرها مفض إلى الحرج، ولا كذلك الظهر، وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط ا هـ 
(قوله:لأنها خلفه ) علمت جوابه". (367/1ط:سعید)
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201059
تاریخ07-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں