بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو کب تک ادا کرسکتے ہیں؟

سوال

فجر کی نماز کی اگر سنتیں رہ جائیں  جماعت کے بعد کب ادا کر سکتے ہیں؟ کتنا وقفہ کرنا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فجر  کی سنتیں اگر فرض سے پہلے نہ پڑھی گئی ہوں تو  سورج نکلنے کے بعد جب اشراق کا وقت ہوجائے، اسی دن زوال سے پہلے پہلے قضا کی نیت سے پڑھی جائیں، فرض کے بعد طلوع سے پہلے درمیانی وقت میں پڑھنا درست نہیں۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنه قال: سمعت غير واحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وكان من أجلهم إلى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس وعن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس". (2/52)

الحلبي الكبير میں ہے:

"قال محمد رحمه الله: أحب إلي أن أقضيها إذا فاتت وحدها بعد طلوع الشمس قبل الزوال". (فصل في النوافل فروع: لو ترك، ص: 397، ط: سهيل اكيديمي) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201055
تاریخ07-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں