بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک سے گاڑی لینا

سوال

میں ایک مروجہ غیر سودی بینک سے گاڑی لینا چاہتا ہوں،  کیا اس میں سود ہے؟ اور جو مفتیان حضرات اسے جائز کہتے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط ہے؟

جواب

مروجہ غیر سودی بینکوں سے گاڑی لینا شرعاً درست نہیں، یہ سودی معاملہ ہے؛  لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:

میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201014
تاریخ07-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں