بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمزم میں پانی ملاکر تقسیم کرنا

سوال

حج یا عمرہ کرنے والے کو  ایک زمزم کی بوتل دی جاتی ہے, اب یہ شخص گھر میں ایک بڑے سے پانی کے کین میں زمزم کی آدھی بوتل ڈال کر لوگوں میں اس زمزم کو تقسیم کرتا ہے،  کیا اس طرح تقسیم کرنا جائز ہے؟

جواب

حج یا عمر ہ سے آنے کے بعد وہاں کے تبرکات مثلاً کھجور، زم زم اور دیگر اشیاء اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا درست ہے۔ بہتر یہی ہے کہ رشتے داروں اوردوستوں وغیرہ کو جب زم زم دے تو خالص دے، چاہے مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ زم زم میں اگر عام پانی ملا دیا جائے تو اس کا ثبوت بھی روایت میں ہے،  اور زم زم کی خاصیت یہ ہے کہ عام پانی میں ملانے سے زم زم کی برکات اس میں منتقل ہوجاتی ہیں، اس لیے حصولِ برکت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، لیکن اسے خالص زم زم  کہہ کر متعلقین کودینا درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200958
تاریخ05-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں