بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روپیوں کے ساتھ درہموں کی زکاۃ کیسے ادا کی جائے گی؟

سوال

ایک شخص کے پاس نقد کچھ درہم موجود ہے اور کچھ روپے، سال گزرنے پر زکاۃ کس طرح ادا کرے؟  کیا درہم کا الگ حساب ہوگا روپیوں کاالگ؟ روپے کا تو معلوم ہے کہ ایک لاکھ پر ڈھائی ہزار ہے،  مگر درہم کا حساب کس طرح کیا جائے؟

جواب

دو صورتیں ہیں: یا تو درہموں کا ڈھائی فیصد الگ ادا کردے اور باقی نصاب کا ڈھائی فیصد الگ ادا کرے۔ یعنی جتنی مقدار میں درہم موجود ہیں، انہیں 40 پر تقسیم کردے، حاصل شدہ مقدار کل دراہم کا ڈھائی فی صد ہوگی، مثلاً: پانچ ہزار درہم ہیں تو اسے چالیس پر تقسیم کرنے سے ایک سو پچیس درہم نتیجہ ہوگا، جو پانچ ہزار کا ڈھائی فیصد ہے۔

  یا مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے درہموں کی مالیت طے کرکے بقیہ نصاب کے ساتھ ملا لے اور مجموعی رقم کا ڈھائی فیصد ادا کرے، دونوں صورتیں جائز ہیں۔ ڈھائی فی صد معلوم کرنے کا آسان طریقہ وہی ہے جو اوپر ذکر ہوا۔

"(قَوْلُهُ: وَإِنْ تَعَدَّدَ النِّصَابُ) أَيْ بِحَيْثُ يَبْلُغُ قَبْلَ الضَّمِّ مَالُ كُلِّ وَاحِدٍ بِانْفِرَادِهِ نِصَابًا فَإِنَّهُ يَجِبُ حِينَئِذٍ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا زَكَاةُ نِصَابِهِ" . (ردالمحتار: ٢ / ٣٠٤) فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200950
تاریخ04-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں