بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیرمحرم کو حج کی مبارک دینا

سوال

کسی غیر محرم کو حج کی مبارک باد  دینے کے لیے جانا کیسا ہے ؟

جواب

اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور ضرورت کا تقاضا ہو تو عورت کا پردہ میں رہ کر کسی غیر محرم کو حج کی مبارک باد دینے کی گنجائش ہے،  لازم نہیں ہے، البتہ بات نرم لہجے میں نہ کرے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{يا أيها النبي قل لأزواجك وبنٰتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذٰلك أدنى أن يعرفن فلا يؤذين وكان الله غفورًا رحيمًا} [سورة الأحزاب، آيت: 59]

فتاویٰ شامی میں ہے:

"«وصوتها على الراجح، (قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله: على الراجح) عبارة البحر عن الحلية: أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده". (ج:1، ص: 406، ط: سعيد)

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"وتقدم في الأذان أن صوتها عورة، وليس المراد كلامها، بل ما يحصل من تليينه وتمطيطه لايحل سماعه". (ج:1، ص: 91، ط: المكتبة العصرية)

مجموعة الفتاوى للكنوي میں ہے:

’’اور حق اس باب میں یہ ہے کہ مطلق عورت کی آواز ستر نہیں ہے، البتہ رفعِ صوت مع بلندی آواز وغیرہ ستر ہے ۔۔۔‘‘ (کتاب الصلاۃ، ج:1، ص: 216، ط: سعید)

امداد الفتاویٰ میں ہے:

’’عورتوں کو اجنبی مرد کے سامنے چہرہ کھولنا یا آواز سنانا وغیرہ:

الجواب: عورت حرۃ کو تمام اعضاء کا پردہ فرض ہے ۔۔۔ اور آواز میں اختلاف ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ وہ عورۃ نہیں ہے۔ ۔۔۔‘‘ (باب الحظر والاباحۃ، ج: 4، ص: 197، ط: مکتبہ دارالعلوم)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200934
تاریخ04-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں