بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقے کے چند احکام

سوال

عقیقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ساتویں دن کرنا سنت ہے، لڑکے میں دو بکرے ذبح ہوتے ہیں، کیا میں ایک بکرا ساتویں دن اور ایک بکرا دو سے تین دن بعد کر سکتا ہوں؟  کون سا جانور سنت ہے؟ 

جواب

عقیقہ کرنا سنت ہے، بہتر ہے کہ  ساتویں دن ، ورنہ چودہویں  یا اکیسویں دن کیا جائے، اور عقیقے کے جانور کے لیے وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کے لیے ہیں، یعنی دو دانت کے بکرے ہوں۔ سنت کے زیادہ قریب یہی ہے کہ دونوں جانور ایک ساتھ ذبح کیے جائیں،  لہذا اگر آپ ساتویں دن دو جانور ذبح نہ کرسکتے ہوں تو چودہویں دن ذبح کرلیں۔

"يُسْتَحَبُّ لِمَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ أَنْ يُسَمِّيَهُ يَوْمَ أُسْبُوعِهِ وَيَحْلِقَ رَأْسَهُ وَيَتَصَدَّقَ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ الثَّلَاثَةِ بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً أَوْ ذَهَبًا، ثُمَّ يَعِقُّ عِنْدَ الْحَلْقِ عَقِيقَةً إبَاحَةً عَلَى مَا فِي الْجَامِعِ الْمَحْبُوبِيِّ، أَوْ تَطَوُّعًا عَلَى مَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ، وَهِيَ شَاةٌ تَصْلُحُ لِلْأُضْحِيَّةِ تُذْبَحُ لِلذَّكَرِ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ فَرَّقَ لَحْمَهَا نِيئًا أَوْ طَبَخَهُ بِحُمُوضَةٍ أَوْ بِدُونِهَا مَعَ كَسْرِ عَظْمِهَا أَوْ لَا وَاِتِّخَاذِ دَعْوَةٍ أَوْ لَا، وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ. وَسَنَّهَا الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ سُنَّةً مُؤَكَّدَةً شَاتَانِ عَنْ الْغُلَامِ وَشَاةٌ عَنْ الْجَارِيَةِ غُرَرُ الْأَفْكَارِ مُلَخَّصًا، وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ". (رد المحتار: ٦/٣٣٦) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200914
تاریخ03-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں