بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے بلا سود قرضہ لینے کا حکم

سوال

اگر عوام کو  حکومت سے قرضہ بلا سود ملے، عوام جو بینک سے بلا سود قرضہ لے تو اس پر مارک اَپ ، حکومت  ادا کرے  تو کیا ایسا بلا سود قرضہ لینا  جائز ہے؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں عوام کے لیے بلا سود قرضہ لینا جائز ہے، البتہ  چوں کہ سود کا لین دین ناجائز ہے، اس لیے  بینک کو سود دینے کا گناہ حکومت پر ہوگا،  صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

عن جابر، قال : لعن رسول اللَّه صلى اللَه عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه. وقال : " هم سواء".

(باب لعن آكل الرباء وموكله، رقم الحدیث:1598، ص:50، ج:5، ط:الناشر: دار الطباعة العامرة - تركيا)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012200911
تاریخ03-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں