بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیل کمپنی سے معاملات کرنا

سوال

سننے میں آیا ہے کہ ’’شیل پیٹرولیم کمپنی‘‘  یہ ایک یہودی کمپنی ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کام کر رہی ہے،  اس کے ساتھ کاروبار کرنا کیسا ہے؟ مثلاً ان کے لیبل سے پٹرول پمپ لگانا،  پٹرول خرید و فروخت کرنا شرعاً  کیسا ہے؟  اسی طرح ان کے پمپ سے گاڑی میں پٹرول وغیرہ ڈالنا؟

جواب

اگر واقعتاً مذکورہ پیٹرولیم کمپنی کا مالک یہودی ہو تو اس کے ساتھ کاروبار کرنا اور اس کے پٹرول پمپ سے پٹرول خریدنا فی نفسہٖ جائز ہے، البتہ دینی غیرت  کے خلاف ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اپنی قومی کمپنیوں کے ساتھ معاملہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200889
تاریخ02-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں