بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں باجماعت نماز کا اہتمام کرنا

سوال

سفر میں نماز باجماعت کا اہتمام ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

سفر میں باجماعت نماز کا اہتمام کرنا آدابِ سفر میں سے ہے جیسا کہ صاحبِ  کنز العمال نے ایک مرسل روایت آدابِ سفر میں نقل کی ہے جس میں ہے کہ  جب سفر میں تین مسلمان جمع ہوں تو ان میں سے جو سب سے زیادہ کتاب اللہ کا پڑھا ہوا ہو وہ ان کی امامت کرے، خواہ وہ ان میں سب سے چھوٹا ہو اور جو ان کی امامت کرے وہی ان کا امیر ہوگا جس کو رسول اللہﷺ نے امیر بنایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سفر میں (خصوصاً جاری سفر میں) جماعت کی وہ تاکید تو نہیں جو اقامت کی حالت میں ہے، البتہ کوشش کی جائے کہ سفر میں بھی جماعت سے نماز ادا کی جائے تاکہ جماعت کی فضیلت حاصل رہے۔

كنز العمال (6 / 716):
" إذا اجتمع ثلاثة مسلمين في سفر فليؤمهم أقرؤهم لكتاب الله وإن كان أصغرهم، فإذا أمهم فهو أميرهم، وذلك أمير أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ش عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، مرسلاً". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200828
تاریخ31-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں