بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیس بک پر جھوٹی ٰآئی ڈی بنانا اور دھوکہ دینا

سوال

ایک شخص فیس بک پر جھوٹی پوسٹ اپنی خفیہ آئی ڈی سے دے دیتا ہے،پھر اپنی معروف آئی ڈی سے اس پر کمنٹ میں "إنا لله وإنا إلیه راجعون"  لکھ دیتا ہے؛  تاکہ کسی کو پتا نہ چلے کہ دوسری آئی  ڈی اس کی ہے۔ اس شخص کا یہ فعل شریعت کی رو سے کیسا ہے؟

جواب

شریعت کی رو سے اس شخص کا یہ فعل جھوٹ اور دھوکا  دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ،  اس طرح کا منافقانہ طرزِ  عمل  کسی مسلمان کے شایان شان نہیں، مذکورہ شخص کو اس دو رُخے طرزِ عمل سے باز آنا چاہیے اور سچی توبہ کرنی چاہیے، اور اگر اس کی جھوٹی پوسٹ لگانے سے لوگوں کا دینی یا دنیاوی نقصان ہوا ہو  تو اس کے ازالے کی سعی بھی کرنی چاہیے۔ 

جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، قرآنِ کریم میں ہے:

﴿ إِنَّ الله َ لَايَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِف كَذَّاب ﴾

ترجمہ:اللہ تعالی ایسے شخص کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو (اپنی) حد سے گزرجانے والا ، بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ (بیان القرآن)

 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

" آية المنافق ثلاث وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان." ( الصحيح لمسلم)

 ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگر چہ وہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: ایک یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے  ، دوسرے یہ کہ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، تیسرے یہ کہ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ کو مسلمان کی شان کے خلاف بتا یا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

 " وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب))." ( مسند أحمد )

ترجمہ: مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200780
تاریخ29-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں