آپ کو جو بہتر لگے کرلو کہنے سے طلاق کاحکم
سوال
میرے دوست کی بہن کا نکاح ہوا تھا، رخصتی 5 ماہ بعد تھی، رخصتی سے پہلے دوست کی بہن کو معلوم ہوا تھا اس کا شوہر صحیح نہیں ہے، پھر دوست کی بہن اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی رہی، شوہر نے جواب میں کہہ دیاہے: آپ کو جو بہتر لگے وہ کرلو۔ آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے؟ یا وہ لڑکی اب بھی نکاح میں ہے؟
جواب
شوہر کے یہ کہنے سے کہ آپ کو جو بہتر لگے وہ کرلو اس کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی نکاح بدستور برقرار ہے ،بحیثیت میاں بیوی ساتھ رہ سکتے ہیں ۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

