بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر سید کی سیدہ خاتون سے مستحق اولاد کو زکاة دینا جائز ہے

سوال

کیاغیر سید آدمی سے بیاہی سیدہ خاتون کے بچوں کو زکاۃ دی جا سکتی ہے؟ 

جواب

سیدہ خاتون جو غیر سید شخص کے نکاح میں ہو اور اس کی اولاد مستحق ہو تو ان کو زکاۃ دینا جائز ہے۔  

مذکورہ صورت میں مستحق ہونے کا مطلب یہ ہے: 1- اولاد فقیر اور بالغ ہو،  یا نابالغ اورفقیر ہو اور والد بھی فقیر ہو،  یا فقیر اولاد نابالغ یتیم  ہو، یا اولاد تو نابالغ فقیر ہو، اور والد مال دار ہو لیکن والد ان کا خرچہ نہ دیتاہو اور بچہ سمجھ دار ہو تو اسے زکاۃ دینا جائز ہوگا۔

"مَنْ كَانَتْ أُمُّهَا عَلَوِيَّةً مَثَلًا وَأَبُوهَا عَجَمِيٌّ يَكُونُ الْعَجَمِيُّ كُفُؤًا لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَهَا شَرَفٌ مَا لِأَنَّ النَّسَبَ لِلْآبَاءِ وَلِهَذَا جَازَ دَفْعُ الزَّكَاةِ إلَيْهَا فَلَا يُعْتَبَرُ التَّفَاوُتُ بَيْنَهُمَا مِنْ جِهَةِ شَرَفِ الْأُمِّ وَلَمْ أَرَ مَنْصَرَّحَ بِهَذَا وَاَللَّهُ أَعْلَمُ". [رد المحتار : ٣/ ٨٧]  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200750
تاریخ28-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں