بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر حاجی کو رمی کے لیے نائب بنانا

سوال

 حاجی رمی جمرات کے لیے کسی ایسے شخص کو نائب مقرر کر سکتا ہے جو خود اس وقت حج نہ کر رہا ہو؟

جواب

جو شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر نہیں یا جمرات تک پیدل یا سوار ہوکر آنے میں سخت تکلیف ہو یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو  تو ایسے مریض ، کم زور ، بوڑھے اور اپاہج وغیرہ کی طرف سے رمی کی نیابت جائز ہے۔نائب کے لیے کتب میں عبارات مطلق ہیں اورحاجی کی قید اس میں نہیں ہے،  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نائب کے لیے یہ ضروری  نہیں ہے کہ وہ حج کررہا ہو۔  تاہم یہ مسئلہ مزید  بھی زیر تحقیق ہے۔کچھ عرصہ بعد دوبار دریافت کرلیجیے گا۔

"السادس: أن یرمي بنفسه، فلاتجوز النیابة فیه عند القدرة. و الرجل و المرأة في الرمي سواء، إلا أن رمیها في اللیل أفضل، فلاتجوز النیابة عن المرأة بغیر عذر. وتجوز عند العذر، فلو رمی عن مریض بأمره أو مغمی علیه و لو بغیر أمره أو صبي أو معتوه أو مجنون جاز. والأولی أن یرمي السبعة أولاً عن نفسه، ثم عن غیره. و لو رمی بحصاتین إحداهما عن نفسه والأخری من غیره جاز، ویکره". (غنیة الناسك،ص:۲۴۳، فصل في شرائط الرمي) فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200702
تاریخ26-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں