بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کی سال گرہ کا حکم

سوال

اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو سال گرہ کے موقع پر یا شادی کی سال گرہ پر تحفے دیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ کسی محفل کا اہتمام نہ ہو بس تحفوں کا تبادلہ ہو جائے؟

جواب

شادی بیاہ یاعمررفتہ کی سال گرہ مناناکوئی شرعی تقریب نہیں ہے اور نہ ہی شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے، بلکہ یہ چیزیں غیرمسلموں کی تہذیب سے مشابہت رکھتی ہیں، اس لیے ان سے احترازچاہیے۔ البتہ سال گرہ کی قیدکے بغیرمطلقاً ایک دوسرے کوتحفہ دینادرست اورکارثواب ہے۔(کفایت المفتی ،سال گرہ کی رسم ،9/84،ط:دارالاشاعت۔اسلام اورہماری زندگی،7/308،ط:ادارۂ اسلامیات)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200681
تاریخ25-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں