بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی کے لیے سونے کے قیراط کا تعین کیسے ہو؟

سوال

زیور کی زکاۃ  کے تعین کے لیے اگر معلوم نہ ہو کہ زیور 22 قیراط پر بنا ہے یا 24 قیراط پر تو قیمت کا اندازہ کس طرح لگایا جائے؟

جواب

سونے کے معیار کے فرق سے سونے کی قیمت میں بھی فرق آجاتاہے اور قیمت میں فرق کی وجہ سے زکاۃ  کی رقم میں بھی تفاوت آتاہے، اس لیے یا تو سونے کی خریداری کے وقت قیراط کا تعین کروایاجائے، اور اسے یاد رکھاجائے، نیز عموماً دکان دار خریداری کی رسید پر سونے کی نوعیت لکھ دیتے ہیں اس سے بھی اندازا  لگایاجاسکتاہے، اور یہ صورت ممکن نہ ہو تو سنار سے سونے کا قیراط معلوم کروالیا جائے۔ بہرحال یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کی تحقیق نہ کی جاسکے۔ اور اگر آدمی 24قیراط کی قیمت کے حساب سے ہی زکاۃ  اداکردے تو یہ بھی درست ہے، کیوں کہ اعلیٰ درجے پررکھنے کی صورت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔

مذکورہ تفصیل اس وقت ہے جب قیمت کی صورت میں زکاۃ ادا کی جائے، اگر سونے کی زکاۃ سونے کی صورت میں ہی ادا کی جائے تو اس کا وزن کراکے  چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکاۃ میں دے دیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200646
تاریخ24-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں