بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاتم نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

کیااسلام میں ’’حاتم‘‘  نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

’’حاتم‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کے معنی قاضی اور ایک خاص کوے کے آتے ہیں۔مذکورہ نام رکھا جاسکتاہے۔ البتہ انبیاءِ کرام علیہم السلام یاصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اسماء گرامی میں سے کسی کو منتخب کرکے رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

الصحاح فی اللغۃ میں ہے :

"حتم:الحَتْمُ: إحكام الأمر. والحَتْمُ: القضاء؛ والجمع الحُتومُ. قال أمية بن أبي الصلت:

عِبادُكَ يُخْطِئُونَ وأنت ربٌّ ... بكَفَّيْكَ المنايا والحُتومُ

وحَتَمْتُ عليه الشيء: أوجبت. والحاتِمُ: القاضي. والحاتِمُ: الغُرابُ الأسودُ". (1/114)

المصباح المنیر میں ہے :

"( ح ت م ) : حتم عليه الأمر حتماً من باب ضرب أوجبه جزماً وانحتم الأمر وتحتم وجب وجوباً لايمكن إسقاطه، وكانت العرب تسمي الغراب حاتماً؛ لأنه يحتم بالفراق على زعمهم أي يوجبه بنعاقه". (2/278)

المعجم الوسیط میں ہے :

"( الحاتم ) القاضي والغراب لزعمهم أنه يقضي بالفراق إذا نعب قال المرقش ( ولقد غدوت وكنت لا أغدو على واق وحاتم )". (1/155)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200645
تاریخ24-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں