بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالت میں کھانا پینا

سوال

کیا حالتِ  جنابت میں کھانا پینا جائز ہے؟ اگر کوئی حالتِ  جنابت میں چاول ،گندم، آٹے،کھانے پینے کا ذخیرہ یا پانی میں ہاتھ لگاتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

حالتِ  جنابت میں کھانا پینا درست ہے، بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے کھائے پیے، اور بغیر وضو کیے صرف ہاتھ منہ دھوکر کھاپی لے تو بھی جائز ہے، البتہ خلاف اولیٰ ہے۔(کفایت المفتی 2/313دارالاشاعت-فتاوی بینات 4/446مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن)

اگرہاتھ پر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنابت کی حالت میں کسی چیز کو ہاتھ لگانے یا غسل یا وضو کرنے کے لیے ہاتھ ڈال کر پانی نکالنے  سے وہ اشیاء اور پانی ناپاک نہ ہوگا، تاہم اگر چھوٹا برتن موجود ہو تو اسی سے پانی لے کر وضو یا غسل کرنا چاہیے۔

"بأن يغسل بعض أعضائه أو يدخل يده أو رجله في جب لغير اغتراف ونحوه، فإنه يصير مستعملاً؛ لسقوط الفرض اتفاقاً.

(قوله: لغير اغتراف) بل للتبرد أو غسل يده من طين أو عجين، فلو قصد الاغتراف ونحوه كاستخراج كوز لم يصر مستعملاً للضرورة". الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 200)

"إذا أدخل المحدث أو الجنب أو الحائض التي طهرت يده في الماء للاغتراف لا يصير مستعملاً للضرورة. كذا في التبيين. وكذا إذا وقع الكوز في الحب فأدخل يده فيه إلى المرفق لإخراج الكوز لايصير مستعملاً، بخلاف ما إذا أدخل يده في الإناء أو رجله للتبرد فإنه يصير مستعملاً لعدم الضرورة. هكذا في الخلاصة". (الفتاوى الهندية (1/ 22) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200644
تاریخ24-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں