بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول ٹیچر کا اپنی جگہ کسی اور کو کم معاوضے پر تدریس حوالہ کرنا اور بقیہ تنخواہ خود لینا

سوال

زید ایک سرکاری سکول میں ٹیچر ہے، اس کی ماہانہ تنخواہ ساٹھ ہزار روپیہ ہے، مگر وہ خود بچوں کو پڑھانے کی بجائے پانچ ہزار روپے کے عوض کسی آدمی کو رکھا ہوا ہے، وہی بچوں کو پڑھاتا ہے، اب زید کا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو اجرت کے عوض کوئی کام دیا جائے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ کام اس نوعیت کا ہو کہ کوئی بھی شخص اس کام کو کر سکتا ہو اور اجرت پر رکھنے والے نے اجازت بھی دی ہو تو وہ کام کسی دوسرے سے کروانا جائز ہو گا اور اگر وہ کام اس نوعیت کا ہو کہ ہر آدمی اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو اور اجرت پر رکھنے والے نے اس کی اجازت بھی نہ دی ہو تو ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص سے وہ کام کروانا جائز نہ ہو گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب اسکول انتظامیہ نے ساٹھ ہزار روپے کے عوض زید کو  بطورِ ٹیچر رکھا ہوا ہے تو انتظامیہ زید ہی کی صلاحیت پر راضی ہے، کسی دوسرے شخص کی صلاحیت پر راضی نہ ہو گی،  اس لیے زید کا اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو پڑھانے کے لیے بھیجنا اور تنخواہ خود وصول کرنا شرعاً درست نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 18):
"(وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للأجير أن يستأجر غيره".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200642
تاریخ24-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں