بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتاب کا مسودہ بیچنا

سوال

میں سب سے پہلے معذرت چاہتاہوں کہ اپنا سوال پوری طرح واضح نہیں کرسکا۔ میرا سوال مندرجہ ذیل سوال سے متعلق ہے۔فتوی نمبر: 144012200188 سائنس دان ایک کتاب لکھتا ہے،  کتاب لکھنے سے پہلے پبلشر سے معاہدہ کرتا ہے کہ میں ایک سال کے اندر کتاب لکھوں گا اور پھر آپ کو اس کا مسودہ دے دوں گا۔  پبلشر پھر اس کتاب کو اپنے خرچے پر چھاپے گا۔ پھر چھاپنے کے بعد دو سال کے اندر اس کتاب کے جتنے نسخے بکیں گے اس کا آٹھ فیصد پبلشر سائنس دان کو دے گا۔ اس کے بعد یہ کتاب بکنے پر پبلشر کچھ بھی معاوضہ سائنس دان کو نہیں دے گا۔  کیا اس طرح سے سائنس دان کا معاوضہ لینا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں مصنف اپنی کتاب کا مسودہ  پبلشر کو بیچ رہا ہے اس میں ضروری ہے کہ اس مسودے کی قیمت متعین ہو، اب معلوم نہیں کہ دو سال میں کتنے مسودے بکیں گے۔ بغیر متعین کیے مسودہ بیچنا جائز نہیں، لہذا دونوں باہمی رضامندی سے طے کرلیں کہ اس مسودے کی کل رقم  مثلاً دو لاکھ ہے اور وصولی کا وقت بھی طے کرلیں  پھر  پبلشر اس مقررہ وقت پر ادائیگی کردے۔ اس طرح بیچنا درست ہے۔

المبسوط:

’’فقال : قد أخذت منك هذا بمثل ما یبیع الناس فهذا فاسد، لو قال: أخذت منك بمثل ما أخذ فلان من الثمن فهو فاسد‘‘. (۵/۹۰، کتاب البیوع) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200636
تاریخ23-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں