بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سلسلہ شاذلیہ میں بیعت ہونا

سوال

آج کل تصوف کا ایک سلسلہ متعارف ہوا ہے جو سلسلہ شاذلیہ کے نام سے جانا جاتا ہے,  اس کے بارے میں راہ نمائی فرمادیں کہ آیا اس سلسلہ میں بیعت ہونا صحیح ہے،  جب کہ یہ سلسلہ خود کو علمائے دیوبند کی طرف منسوب کرتا ہے اور ان کا نام لیوا ہے؟

جواب

’’سلسلہ شاذلیہ‘‘  جدید سلسلہ نہیں ہے، یہ ساتویں صدی عیسوی کے بزرگ ابوالحسن علی شاذلی بن عبد ﷲ شریف حسینی المغربی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے،  نسباً ساداتِ بنی حسن میں سے ہیں۔  لیکن ہمارے ہاں اس کا سلسلہ محفوظ نہیں رہا، ہمارے بلاد میں بہتر یہ ہے کہ جو سلاسلِ اربعہ(نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ)مستند ومعتمد ہیں، ان سلاسل کے کسی مستند صاحبِ نسبت سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں، اور اگر کسی کے ہاں سلسلۂ شاذلیہ محفوظ ہو (جیساکہ عرب ممالک اور ترکی کے حوالے سے تحقیق سے معلوم ہواکہ وہاں یہ سلسلہ باقی ہے) تو وہاں بیعت کی جاسکتی ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200621
تاریخ22-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں