بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثت کی تقسیم

سوال

ایک مکان،  تین افراد یعنی باپ، ماں اور بیٹے کے نام پےہے. باپ کا انتقال ہو گیا ہے. وراثت کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

جواب

اگر مرحوم کے کل ورثاء یہی ہیں تو مرحوم کے ترکے سے حقوقِ متقدمہ ادا کرنے کے بعد ترکے  کاآٹھواں حصہ بیوہ کو اوربقیہ بیٹے کو ملے گا۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 772):
"(و) السدس (للجدة مطلقاً) كأم أم وأم أب (فصاعداً) يشتركن فيه (إذ كن ثابتات) أي صحيحات كالمذكورتين فإن الفاسدة من ذوي الأرحام كما سيجيء (متحاذيات في الدرجة لأن القربى تحجب البعدى) مطلقا كما سيجيء". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200616
تاریخ22-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں