بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں کا بیٹے سے سرزد نقصان کو زکاۃ سے ادا کرنا

سوال

ایک لڑکا کہیں کام کرنے گیا اور وہاں غلط کاموں میں لگ گیا اور کسی نے اس کو گاڑی بیچنے کے لیے دی یہ بیچ کر  اس کے پیسے لے کر پاکستان آگیا، اس علاقے میں وہ گاڑی والے پیسوں کے لیے اس کی ماں اور بھابھی کو تنگ کررہے ہیں، کیا اس کی ماں یہ رقم زکاۃ میں سے ادا کرسکتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں  اصل رقم بیٹے پر ہے  جو کہ مفرور ہے، ماں کے ذمہ نہیں کہ وہ رقم ادا کرے؛ لہذا ماں سے مطالبہ درست نہیں ہے۔  نیز ماں اس مد میں اپنی زکاۃ بھی نہیں دے سکتی اور اپنے بیٹے کو بھی اپنی زکاۃ  نہیں دے سکتی۔

البتہ اگر بیٹا واقعۃً مستحقِ زکاۃ ہے (اور گاڑی کی قیمت بھی اس کے پاس موجود نہیں ہے) تو ماں کے علاوہ بھائی وغیرہ زکاۃ کی رقم کا اس کو مالک بنادیں اور وہ گاڑی کی قیمت ادا کردے تو درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200613
تاریخ22-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں