بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کا عورتوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کا حکم

سوال

اگر کوئی بالغ مرد نوجوان عورتوں کو قرآن مجید کی تعلیم دے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی صورت کیا ہے؟

جواب

الحمد للہ ہمارے ملک میں تجوید کے ساتھ قرآنِ مجید پڑھی ہوئی بہت سی خواتین ہیں، اور اس غرض کے لیے علاقوں اور محلوں کی سطح پر مکاتب و مدارسِ دینیہ قائم ہیں، لہٰذا بالغ یا قریب البلوغ لڑکیوں کو باپردہ ماحول میں اپنے علاقوں میں خواتین معلمات سے ہی قرآنِ مجید پڑھنا چاہیے۔مرد اساتذہ کو فتنے کے مواقع سے بچ کر رہنا چاہیے۔

البتہ اگر کسی جگہ کوئی خاتون تجوید کے ساتھ پڑھانے والی نہ ہو یا کوئی اور مجبوری ہو اور معلم پسِ دیوار یا پسِ پردہ اس طور پر پڑھائے کہ طالبات کے ساتھ قطعاً اختلاط اور بے پردگی نہ ہو تو بوقتِ ضرورت اس کی گنجائش ہوگی۔ جہاں پردے کا اہتمام نہ ہو یا اختلاط کا اندیشہ ہو وہاں شرعاً اجازت نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200606
تاریخ22-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں