بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بروکری و کمیشن لینا کس کے لیےجائز ہے؟

سوال

ایک آدمی میرے ساتھ کاروبار کرنا چاہتا ہے، مگر  میرے پاس وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں اس کو کہتا ہوں:  فلاں آدمی کے ساتھ کاروبار کرلو ، میں اس کی ضمانت دیتاہوں، وہ آدمی ٹھیک ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو میں ضامن ہوں، مگر آپ جب بھی اس سے سامان خریدوفروخت کرو گے مجھے 5 فیصد کمیشن دو گے۔ آیا کہ میرا یہ کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟ اگر کوئی اور جواز صورت ہو تو وہ بتا دیں۔

جواب

واضح رہے کہ  دلالی ( بروکری) لینا شرعاً اس وقت جائز ہوتا ہے جب کہ بروکر سامان کی خریداری یا فروخت کرنے میں اپنا کردار ادا کرے،  پس جب جب وہ کردار ادا کرے اس کے لیے بروکری یا کمیشن وصول کرنا جائز ہوتا ہے، البتہ اگر کسی پارٹی سے مال ڈلوانے کے بعد وہ دونوں پارٹیاں  ڈائریکٹ ہوکر بعد میں کوئی سودا کرتے ہیں، جس میں تعارف کرانے والے شخص کی کوئی سعی و کوشش نہیں ہو تو ایسی صورت میں تعارف کرانے والے شخص کوکمیشن کے مطالبہ کا شرعاً حق نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں جس سودا کروانے  میں آپ بنفسِ  نفیس شریک ہوں اس میں کمیشن متعین کرکے لینا آپ کے لیے جائز ہوگا، بصورتِ  دیگر کمیشن کے مطالبہ کا آپ کو حق نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012200602
تاریخ22-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں