بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پتلون(pant) کا کاروبار کرنا

سوال

کیا پینٹ (پتلون) کا کاروبار کرنا جائز ہے؟

جواب

اگر مخصوص سائز کے حساب سے پینٹ اس طرح بنائی گئی ہوں کہ اس سے جسم کی ساخت واضح نہ ہوتی ہو اور ستر نہ کھلتاہو تو ایسی صورت میں اس کا کاروبار کرنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہوگی۔  لیکن اگر اس کی بناوٹ ایسی ہو کہ اس سے جسم کی ساخت واضح ہوتی ہو  یعنی اسکن فٹنگ ہو یا ستر کا حصہ کھلتاہو تو ایسی صورت میں اس کے پہننے کی طرح اس کا کاروبار کرنا بھی درست نہ ہو گا۔

بہرصورت  صلحاء کا لباس چوں کہ قمیص شلوار ہے؛ اس لیے اس کی ترویج کی نیت سے اگر پینٹ شرٹ کے بجائے قمیص شلوار کا کاروبار کیا جائے تو   زیادہ بہتر ہو گا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200594
تاریخ22-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں