بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندہ اقارب کے ایصالِ ثواب کے لیے عمرہ کرنا

سوال

 زندہ شخص کے لیے عمرہ کرنے سے متعلق راہ نمائی فرمائیں یعنی جیسے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے عمرہ کیا جاتا ہے، کیا اسی طرح زندہ اقارب کے لیے بھی کرسکتے ہیں ؟ اور کن شرائط کے ساتھ ؟

جواب

کسی بھی زندہ یا فوت شدہ مسلمان کو عمرہ  یا کوئی بھی نفلی عبادت کرکے اس کا ثواب پہنچانا جائز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امتِ محمدیہ کی طرف سے قربانی فرمائی ہے، اور امتِ محمدیہ میں اُس وقت زندہ افراد اور  اُس وقت مرحومین کے ساتھ قیامت تک آنے والے سب مسلمان شامل ہیں. 

ایصالِ  ثواب کے لیے عمرہ کے دو طریقے ہیں:

1 ۔عمرہ اپنی طرف سے ادا کرے اور اس کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کردے، اس صورت میں احرام وتلبیہ میں نیت اپنی ہی کرے گا۔

2 ۔ دوسروں کی طرف سے عمرہ ادا کرے،  احرام باندھتے وقت ان کی طرف سے احرام باندھنے کی نیت کرے، اور تلبیہ بھی ان کی طرف سے پڑھے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200587
تاریخ21-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں