بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں اگر جماع کی غلطی کر بیٹھے تو صدقہ کی مقدار

سوال

حالتِ حیض میں اگر جماع کی غلطی کر بیٹھے،  اللہ تعالی سے توبہ استغفار کرے اور جس طرح ایک جواب میں آپ نے فرمایا ہے کہ ایک دینار یا آدھا دینار دے۔ جو کہ آج کل تقریباً 30700روپے بنتے  ہیں k22 سونے کے،  لیکن اگر بندہ کی استطاعت نہ ہو تو کیا کرے؟  مطلب اگر یہ رقم ماہانہ تھوڑی تھوڑی کرکے دے یا کوئی اور حل ہے؟ راہ نمائی فرمائیں!

جواب

مذکورہ صورت میں ایک دینار یا آدھا دینار واجب نہیں ہے، جس قدر ممکن ہو اتنا صدقہ کردیں، مثلاً  1000 یا 5000 روپے جتنی استطاعت ہو کردے، تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

’’(سوال ۳۳۷) اگر کوئی شخص اپنی زوجہ سے حالتِ حیض میں جماع کرے تو اس پر کفارہ لازم آوے گا یا نہ؟
(جواب)در مختار میں ہے کہ حالتِ حیض میں اپنی زوجہ سے وطی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس کو توبہ کرنا لازم ہے اور ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے، اور ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے ۔فقط۔‘‘ (فتاوی دارالعلوم دیوبند 211-1) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200580
تاریخ21-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں