بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

واٹس ایپ اور IMO (ایمو) وغیرہ کے ذریعہ ویڈیو کال کے حرام ہونے کی وجہ

سوال

آپ کی ایپ پر واٹس ایپ اور آئی ایم او پر ویڈیو کال کے بارے میں پڑھا تھا کہ حرام ہے. اس کی تفصیلی طور پر وضاحت فرمائیں!

جواب

ویڈیو کال  اصل میں تصویر ہی کے حکم میں ہے،کیوں کہ اس میں انتہائی سرعت کے ساتھ بہت ساری تصویروں کو  محفوظ کر کے آگے بھیجنے کا عمل مستقل جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ سامنے والا براہِ  راست نظر آرہا ہے، جب کہ اس کی اصل بھی ریکارڈ شدہ ویڈیو اور تصویر کی ہی ہے، اور تصویر اور ویڈیو شرعاً حرام اور ناجائز ہے؛  اس لیے ویڈیو کال بھی شرعاً حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200575
تاریخ21-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں