بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصہ کی حالت میں بیوی کو بیٹا کھنا

سوال

اگر کسی نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں بیٹا بول دیا تو نکاح پر اس کا اثر ہوگا یا نہیں؟

جواب

مذکورہ الفاظ بیوی کو کہنے سے نکاح  پر کوئی اثر نہیں پڑا ، نکاح برقرار ہے  ،بیوی" کو "بیٹا" کہنا لغو کام ہے اور مکروہ ہے، اس سے احتراز کرنا لازم ہے ۔

کذا فی الشامی: 

" ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه''. (الدر المختار مع الرد، باب الظهار (3/470) ط: سعید)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے : 

'' بیوی کو بیٹا کہنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹا'' ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل، باب الظہار (6/670) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200560
تاریخ20-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں