بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق دے کر رجوع کیا اور پھر تین طلاق دے دیں

سوال

 1. میں نے اپنی بیوی کو کہا: "میں تم کو طلاق دے رہا ہوں" اور ایک ماہ کے اندر ہم نے رجوع کر لیا، کیا یہ صحیح ہے؟

2. اس کے بعد میں نے کسی غیر کے سامنے تین بار کہا : "میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی". اس وقت میری بیوی وہاں پر موجود نہیں تھی، اب اس صورتِ حال پر روشنی ڈالیں.

جواب

(1) مذکورہ جملہ سے ایک طلاقِ  رجعی  واقع ہوئی تھی اور ایک ماہ کے اندر(عدت کے دوران) رجوع کرنے سے نکاح برقرار رہا اور آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاق کا حق تھا۔

(2)بیوی کی غیر موجودگی میں کسی اور کو مذکورہ جملہ تین بار بولنے سے مزید دو طلاقیں بھی واقع ہوگئی ہیں،  نکاح ختم ہوچکا ہے ، اب رجوع کی گنجائش نہیں رہی، کیوں کہ مطلقہ شوہر پر حرام ہوچکی ہے، عدت گزرنے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ دوسری جگہ نکاح کرتی ہے اور دوسرے شوہر کا انتقال ہوجاتاہے یا وہ ہم بستری کے بعد از خود طلاق دے دیتاہے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد آپ کے لیے نئے مہر کے ساتھ نکاح کی اجازت ہوگی۔

الفتاوى الهندية  (1/ 473):
"وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200549
تاریخ20-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں