بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی وجہ سے اپنی بہن یا بیٹی کو قتل کرنے کی صورت میں بخشش کا کفارہ کیا ہے؟

سوال

 اپنی بہن یا بیٹی کو کسی بھی وجہ سے قتل کردیا جائے تو بخشش کا کفارہ کیا ہوگا؟

جواب

اپنی بہن یا بیٹی کو ناحق قتل کرنا انتہائی سخت گناہ کی بات ہے، اگر بہن یا بیٹی  سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو بھی اس بات کا فیصلہ کرنا  قاضی (عدالت) کا کام ہے کہ اس غلطی کی کیا سزا ہونی چاہیے، ہر آدمی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خود سے کسی جرم یا گناہ پر اپنے گھر کے افراد کو جان سے مارنے کی سزا دینے لگ جائے، ایک اسلامی مملکت میں یہ حق صرف قاضی کو حاصل ہوتا ہے۔

بہرحال اگر کسی نے لاعلمی یا غلطی سے اپنی بہن یا بیٹی کو قتل کردیا ہو اور پھر اسے احساس ہو کہ اس نے غلط کیا تو اسے چاہیے کہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خوب توبہ و استغفار کرے۔   باقی یہ دیکھا جائے گا کہ قتل کیسے کیا گیا ہے؟  قتل کی نوعیت اگر قتل عمد کی ہے تو قصاص یا دیت لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔  اور اگر قتل کی نوعیت قتلِ  خطا کی ہوگی تو دیت اور کفارہ قتل ادا کرنا لازم ہوگا۔

قتلِ خطا کا کفارہ یہ ہے کہ  کفارے میں مسلسل ساٹھ روزے رکھنا قاتل پر لازم ہو گا، کفارہ کے روزے میں اگرمرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سر نو رکھنے پڑیں گے۔

حکم کی تفصیل اور تعیین کے لیے قتل کی صورت (یعنی عمداً آلہ قتل سے قتل کیا یا غلطی سے قتل ہوا وغیرہ) لکھ کر دوبارہ سوال کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200512
تاریخ19-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں