بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے لیے ملازمت کرنے کا حکم

سوال

 کیا خواتین کا ملازمت کرنا جائز ہے؟

جواب

خواتین کا بلا ضرورت گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، البتہ کسی دینی یا دنیوی ضرورت کی وجہ سے پردہ کے اہتمام کے ساتھ گھر سے نکلنے  کی اجازت ہے، چنانچہ اگر کسی خاتون کے نان نفقہ کا انتظام شوہر یا کسی اور سرپرست کی طرف سے ہورہا ہو تو محض شوقیہ طور پر ملازمت کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کسی خاتون کے نان نفقہ کا کوئی انتظام نہ ہو تو پھر وہ مجبوراً  اپنے نان نفقہ کا انتظام کرنے کے لیے کسی جگہ ملازمت کر سکتی ہے، لیکن اس صورت میں بھی حتی الوسع کوئی ایسا ذریعہ معاش اختیار کرے جس سے گھر بیٹھے ہی آمدن ہوسکے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہوسکے تو پھر  اس کے لیے گھر سے باہر جاکر ملازمت کرنا بھی جائز ہے،  بشرطیکہ آتے جاتے ہوئے بھی مکمل شرعی پردے کا اہتمام کیا جائے، مہکنے والی خوش بو نہ لگائے، اور ملازمت کی جگہ پر بھی مکمل  پردے کا اہتمام کرے،  مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچے۔ اور ضرورت پوری ہوتے ہی گھر واپس لوٹ آئے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200496
تاریخ18-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں