بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کے طواف میں حجر اسود کا استلام کرنا بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟

سوال

میں نے عمرہ کیا، لیکن سعی سے پہلے استلام نہیں کیا، لیکن یاد آنے پر سعی کے چار چکر کے بعد استلام کر لیا، کیا میرا عمرہ ٹھیک ہوگیا؟

جواب

حجر اسو د کا استلام  کرنا  سنت ہے،واجب  نہیں ۔اگر طواف میں سہواً  یہ رہ جائے  تو طواف ادا ہوگیا۔  بعد میں اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔

"عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما قال: طاف النبي صلی اللّٰه علیه وسلم بالبیت علی بعیر، کلما أتی الرکن أشار إلیه بشيء کان عنده وکبر". (صحیح البخاري / باب التکبیر عند الرکن رقم: ۱۶۱۳)
"وکلما مر بالحجر فعل ما ذکر من الاستلام". (درمختار)

"وفي الهدایة: وإن لم یستطع الاستلام استقبل وکبر وهلل". (درمختار مع الشامي ۳؍۵۱۱) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200475
تاریخ17-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں