حاملہ عورت کو طلاق دینا
سوال
کیاحاملہ عورت کوطلاق دی جا سکتی ہے؟
جواب
بلاوجہ طلاق دینا شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ امر ہے، اس لیے بجائے طلا ق کے حتی الامکان نباہ کی کوشش کریں، تاہم اگر طلاق دینا ناگزیر ہو تو حاملہ ہونے کی حالت میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے اور اس حالت میں بھی طلاق واقع ہوجائے گی۔اگر طلاق دے دی گئی تو عورت کی عدت وضع حمل سے مکمل ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"( أما ) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي". (8/52)
فتاوی شامی میں ہے:
" ( و ) في حق ( الحامل ) مطلقاً ولو أمةً أو كتابيةً أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات أو طلقها تعتد بالوضع، جواهر الفتاوي. ( وضع ) جميع ( حملها )".(3/511)فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

