بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے انتقال کے بعد شوہر، بھائی اور بہنوں کا حصہ

سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا، اس عورت کی اولاد نہیں ہے، شوہر ابھی حیات ہیں،  ان خاتون کی دو بہنیں اور ایک بھائی  ہے اور یہ تینوں شادی شدہ ہیں، بھائی  کابھی  انتقال ہو چکا ہے، کیاان کی میراث شوہر کے ساتھ بہنوں میں تقسیم ہو گی؟یا بھائی  کے بچوں میں میراث جائے گی؟یا مکمل شوہر کو ملے گی؟

جواب

اگر بھائی  کا انتقال بہن کے انتقال سے پہلے ہوا ہے تو اس صورت میں عورت کے بھتیجے میراث کے حق دار نہیں ہوں گے، البتہ شوہر اور بہنوں کو مرحومہ کی میراث میں سے حصہ ملے گا۔اور اگر بھائی کا انتقال مرحومہ کے بعد ہوا ہے اس صورت میں شوہر، بھائی اور بہنیں وارث ہوں گی ،اور بھائی کاحصہ ان کی انتقال کے بعد ان کی اولاد میں تقسیم ہوگا۔

دونوں صورتوں میں مرحومہ کی میراث میں سے نصف شوہر کو ملے گا۔آپ ورثاء کی تفصیل اور مذکورہ مسئلہ وضاحت کرکے ورثاء کے حصص دوبارہ معلوم کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200462
تاریخ17-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں