بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کرنے کے لیے عقیقہ ہونا شرط نہیں

سوال

کیا عمرہ کرنے کے لیے عقیقہ ہونا ضروری ہے؟

جواب

عقیقہ کرنا مستحب ہے،  اور اس  کا مسنون وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے،  اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودھویں (14)  دن  ورنہ اکیسویں ( ۲۱) دن کرے۔لیکن اگر  کوئی شخص عقیقہ نہ کرے تو  اس  سے نہ وہ گناہ گار ہوگا اور نہ ہی اس سے دیگر احکام میں کوئی فرق آئے گا، لہذا جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ بھی عمرہ یا حج کا سفر کرسکتا ہے ،اس کا عمرہ و حج کرنا درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200461
تاریخ17-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں