بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران مطلقہ بیوی کی رہائش کس کے ذمہ ہے؟

سوال

حاملہ بیوی کو جھگڑے کے دوران تین طلاق دی۔ اب اُس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ رجوع تو ممکن نہیں، کیا میں اسے بچے کی پیدائش تک دیکھ بھال کے لیے اپنے پاس بغیر ازدواجی تعلق قائم کیے رکھ سکتا ہوں؟ یا جب تک اس کا کوئی اور ٹھکانہ نہیں بنتا؟ اگر رجوع کی کوئی صورت ہو تو بھی راہ نمائی فرمائیں! 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں چوں کہ  تین طلاق  شوہر دے چکا ہے، لہذا اب رجوع یا تجدیدِ نکاح جائز نہیں، عدت کے دوران سائل پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ خاتون کے نان و نفقہ و رہائش کی فراہمی کی ذمہ داری ادا کرے، پس جب تک بچہ کی پیدائش نہیں ہوجاتی، اس وقت تک مذکورہ خاتون کی  رہائش کا انتظام کرنا  اور اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری نباہنا سائل پر لازم ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200423
تاریخ16-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں