بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قربانی کی کھال جنازہ گاہ کی تعمیر کے لیے دے سکتے ہیں؟

سوال

کیا قربانی کی کھال جنازہ گاہ کی تعمیر کے لیے دی جاسکتی ہے؟

جواب

قربانی کی کھال فروخت کرنے کی صورت میں حاصل شدہ رقم کا واحد مصرف مستحقِ زکاۃ شخص کومالکانہ حقوق و تصرف کے ساتھ دینا ہے، زکاۃ کی طرح اسے بھی جنازہ گاہ کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200420
تاریخ15-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں