بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتے وقت کس سمت پاؤں پھیلانا ممنوع ہے؟

سوال

سوتے وقت کس کس سمت پاؤں کرنا منع ہے؟

جواب

سوتے اور جاگتے ہوئے جان بوجھ کر قبلہ کی طرف، اسی طرح دینی کتب کی طرف پیر پھیلانا مکروہ ہے۔ اور جان کر کسی بزرگ اور عالم کی طرف پاؤں پھیلانا ادب کے خلاف ہے۔

فتاوی هندية میں ہے:

"وَيُكْرَهُ مَدُّ الرِّجْلَيْنِ إلَى الْكَعْبَةِ فِي النَّوْمِ وَغَيْرِهِ عَمْدًا، وَكَذَلِكَ إلَى كُتُبِ الشَّرِيعَةِ، وَكَذَلِكَ فِي حَالِ مُوَاقَعَةِ الْأَهْلِ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ". (كتاب الكراهية، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي آدَابِ الْمَسْجِدِ وَالْقِبْلَةِ وَالْمُصْحَفِ وَمَا كُتِبَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ نَحْوُ الدَّرَاهِمِ وَالْقِرْطَاسِ أَوْ كُتِبَ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى، ٥ / ٣١٩) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200417
تاریخ15-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں