بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلالہ کی میراث

سوال

ایک عورت کے انتقال کے بعد اس کے وُرثاء میں خاوند جس کے عقد میں تھی، ایک بہن اور تین بھائی ہیں۔ اس کےعلاوہ کوئی ایسا رشتہ دار نہیں جو وارث بن سکے، والدین اور اولاد بھی نہیں ہے، نہ اس کے ذمہ قرض ہے، نہ ہی مرحومہ کی کوئی وصیت ہے، ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں اس کی کل جائیداد  کے14 حصے کرکے 7 حصے (یعنی 50 فیصد) شوہر کو اور ایک حصہ  (یعنی 7 اعشاریہ 14فیصد) بہن کو ، اور 2،2 حصے (یعنی 14اعشاریہ 28 فیصد) ہر بھائی  کو ملیں گے. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200399
تاریخ14-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں