بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ بچوں کی طرف سے باپ پر قربانی کا وجوب

سوال

بچے بالغ ہیں،  لیکن روزگار پر نہیں تو  کیا والد پر ان کی طرف سے قربانی واجب ہے؟

جواب

والد پر بچوں کی طرف سے کسی صورت میں قربانی واجب نہیں ۔قربانی کے وجوب کا تعلق روزگار سے نہیں،  بلکہ مال اور صاحبِ حیثیت ہونے سے ہے، لہٰذا قربانی ایسے شخص پر واجب ہوتی ہے جس کے پاس عید الاضحی کے تین دنوں میں (دس ذوالحجہ کی صبح صادق سے لے کر بارہ ذوالحجہ کا سورج غروب ہونے تک) کسی وقت ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ اتنی مالیت کا مال یا سامان ہو جس کی رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو  اور چاندی کی فی تولہ قیمت فی زمانہ (2019)  تقریباً 910 روپے ہے، اس حساب سے چاندی کا نصاب تقریباً 47775 روپے بنتا ہے، لہذا جس شخص کے پاس مذکورہ مالیت کا ضروریاتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو اس پر قربانی واجب ہو گی۔فی تولہ چاندی کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے اس لیے عید قربان کے دن جو قیمت ہوگی وہی معتبر ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200391
تاریخ14-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں