بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شک سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی

سوال

کیا محض شک ہونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے ، جب کہ اس طرح کا کوئی واقعہ بھی نہ ہوا ہو؟

جواب

محض شک کی بنا پر حرمتِ مصاہرت یا حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی،جب تک کہ شہادت یا اقرار موجود نہ ہو۔ نیز حرمتِ مصاہرت کے لیے فقہ میں کئی شرائط ہیں جن کے پائے جانے کی صورت میں ہی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے۔اس لیے محض شک کو حرمت کے لیے بنیاد نہیں بنایاجاسکتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 212):

"وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200361
تاریخ13-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں