بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کو قربانی میں شریک کرنا

سوال

قربانی کے جانور میں کیا نابالغ بچوں کا حصہ شامل کیا جاسکتا ہے ؟

جواب

 قربانی واجب ہونے کی دیگر شرائط میں سے ایک شرط بالغ ہونا ہے، پس اگر کوئی بچہ مال دار ہو تو اس صورت میں بھی اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کے والد پر اپنے نابالغ بچہ کی طرف سے قربانی کرنا لازم ہوگا۔ البتہ اگر کوئی والد اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے از خود قربانی کرنا چاہے تو نفلی طور پر کرسکتا ہے۔  اور جس طرح بالغ افراد نفلی قربانی یا ایصالِ ثواب کی قربانی یا عقیقے کا حصہ واجب قربانی کے حصوں کے ساتھ  بڑے جانور میں شامل کرسکتے ہیں اسی طرح نابالغ بچے کی طرف سے نفلی قربانی کا حصہ اس کا ولی بالغ افراد کے ساتھ جانور کے حصوں میں  شامل کرسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200360
تاریخ13-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں