بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہابیل نام رکھنا

سوال

 میں نے اپنے بیٹے کا نام ’’ہابیل‘‘ رکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے بار بار کہا جارہاہے یہ نام صحیح نہیں ہے، اس نام کو تبدیل کردیں۔کیا ’’ہابیل‘‘نام رکھنا جائز نہیں ہے؟  کیا اسلامیشریعت اس کی اجازت نہیں دیتی؟ کیا ہمارا مذہب اس نام کو رکھنے کی اجازت نہیں دیتا؟

جواب

’’ہابیل‘‘  حضرت آدم علیہ السلام کے نیک و صالح بیٹے کا نام ہے، جسے اس کے بھائی ’’قابیل‘‘  نے قتل کردیا تھا، اس واقعہ کا ذکر سورہ مائدہ  کی آیت نمبر 27 تا آیت نمبر 32 میں ملتا ہے، یہ عربی زبان کا لفظ نہیں، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ کی زبان کا لفظ ہے۔  شرعاً یہ نام رکھنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200317
تاریخ11-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں